جالندھر، 25؍اگست(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)پنجاب گؤ سیوا کمیشن نے کہا ہے کہ ریاست میں سڑکوں پر بھٹکتی آوارہ یا لاوارث گایوں کی بازآبادکاری کے لیے ریاستی حکومت صوبے کے تمام 22اضلاع میں اوسطا 2-2 کروڑ روپے کی لاگت سے ایک ایک گؤ شالا کی تعمیر کروا رہی ہے جو اگلے 3 مہینوں میں بن کر تیار ہو جائیں گی اور اس مدت کے بعد ریاست کی سڑکوں پر کسی بھی گائے کو نہیں بھٹکنے دیا جائے گا۔پنجاب گؤ سیوا کمیشن کے چیئرمین کیمتی لال بھگت نے میڈیا سے بات چیت میں کہاکہ پنجاب حکومت کمیشن کی دیکھ بھال میں ریاست کے تمام 22اضلاع میں ایک ایک گؤ شالا کی تعمیر کروا رہی ہے، اس کی تعمیر پر 44کروڑ روپے خرچ کئے جائیں گے اور ریاستی حکومت نے یہ رقم جاری کر دی ہے۔بھگت نے بتایاکہ سڑکوں پر بھٹکتی ایک لاکھ چھ ہزار سے زیادہ گایوں کی بازآباکاری کے لیے کمیشن پوری طرح پرعزم ہے۔میں نے گؤ شالا کے بارے میں پنجاب حکومت کے پاس اپنا منصوبہ رکھا تھا جس پر وزیر اعلی نے نہ صرف مہر لگاد ی ہے بلکہ اس کے لیے 22کروڑ روپے کی پہلی قسط بھی جاری کر دی۔انہوں نے بتایاکہ اتوار کو دوبارہ میری وزیر اعلی کے ساتھ ملاقات ہوئی اور گؤ شالا کی تعمیر کی سمت میں پیش رفت رپورٹ کو دیکھتے ہوئے وزیر اعلی نے 22کروڑ روپے کی دوسری قسط بھی جاری کر دی۔اس طرح ریاست کے تمام 22اضلاع میں اوسطا 2-2 کروڑ روپے خرچ کرکے گؤ شالا کی تعمیر کا کام کروا یا جا رہا ہے۔کمیشن کے چیئرمین نے بتایا کہ اگلے 3 مہینوں میں یہ مکمل طور بن کر نہ صرف تیار ہو جائے گی بلکہ سڑکوں پر بھٹکتی گایوں کو بھی وہاں منتقل کر دیا جائے گا۔